کاروار 14 / نومبر (ایس او نیوز) ضلع شمالی کینرا میں تعلیمی سہولتیں ا ب اس حد کو چھو رہی ہیں کہ سرکاری اسکولوں کا رخ کرنے سے کترانے والے والدین اور طلبہ کی تعداد میں حد سے زیادہ اضافہ ہوگیا ہے ۔ جس کی وجہ سے ضع کے 161 سرکاری اسکولوں پر تالے پڑ گئے ۔ جبکہ مزید 313 سرکاری اسکول جلد ہی بند ہونے کی قطار میں آ گئے ہیں ۔
حالانکہ ریاستی حکومت کی طرف سے سرکاری اسکول چلانے کے لئے ہزاروں کروڑ روپے کا فنڈ جاری ہوتا ہے ۔ ہزاروں اساتذہ تعینات کیے جاتے ہیں ۔ دوپہر کا کھانا فراہم کرنے کے لئے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کیے جاتے ہیں ۔ اس کے باوجود سرکاری اسکولوں کو معیار بہتر بنانے اور طلبہ کو معیاری تعلیمی سہولتیں فراہم کرنے میں محکمہ تعلیمات عامہ پوری طرح ناکام ہوتا نظر آ رہا ہے ۔
محکمہ تعلیمات عامہ کی طرف سے دی گئی معلومات کے مطابق کاروار تعلیمی ضلع میں 74 اسکولوں کو وہاں پڑھنے والے طلبہ نہ ہونے کی وجہ سے بند کر دیا گیا ۔ سرسی تعلیمی ضلع میں طلبہ کے نئے داخلے نہ ہونے کی وجہ سے 87 اسکولوں پر تالا لگ گیا ہے ۔ ان دونوں تعلیمی اضلاع میں مزید 313 سرکاری اسکول ایسے ہیں جہاں اس وقت طلبہ کی تعداد 10 اور 5 سے کم ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے مستقبلِ قریب میں ان پر تالے لگنا یقینی ہوگیا ہے ۔ 93 اسکول ایسے ہیں جہاں یکم جماعت سے پانچویں جماعت تک کی پڑھائی صرف ایک ہی کلاس روم میں ہو رہی ہے ۔
جانکاروں کا کہنا ہے کہ محکمہ تعلیمات کی طرف سے من مانے طریقے سے اساتذہ کا تبادلہ کرنا اسکولوں کے ماحول بہتر بنانے کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جارہا ہے ۔ تعلقہ سطح سے ریاستی سطح تک سرکاری اسکولوں میں اپنے فرائض منصبی دلچسپی اور رغبت کے ساتھ ادا کرنے والوں کا بڑا فقدان ہے ۔ برائے نام ڈیوٹی ادا کرنا اور مہینہ پورا ہوتے ہی تنخواہ وصول کرنا ایک عام چلن سا بن گیا ہے ۔
محکمہ تعلیات کو اس وقت ایک ہی فکر لاحق ہے کہ جن اسکولوں کو بند کیا گیا ہے وہاں کی زمین پر کوئی اور قبضہ نہ جمائے ۔ اس سے ہٹ کر تعلیمی معیار بلند کرنے، طلبہ کو سرکاری اسکولوں کی راغب کرنے ، اسکولوں میں نئے داخلے کروانے جیسے موضوعات پر غور و فکر اور منصوبہ بندی بالکل نہیں ہو رہی ہے ۔